واشنگٹن ،4؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکا نے روس کے ساتھ شام میں جنگ بندی کے لیے جاری بات چیت معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اس نے روس پر جنگ بندی کے سابقہ سمجھوتے کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا شام میں جنگی کارروائیوں کو روکنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر قائم کیے گئے دو طرفہ چینلز میں اپنی شرکت معطل کررہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ کوئی بآسانی نہیں کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ امریکا اور روس شام میں جاری جنگ کے معاملے میں مخالف سمت میں کھڑے ہیں۔امریکا شامی صدر بشارالاسد کا مخالف ہے اور وہ ان کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے اعتدال پسند شامی دھڑوں کی حمایت کررہا ہے جبکہ روس شامی صدر کا پشتی بان اور حامی ہے اور وہ شامی فوج سے مل کر باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے اور دونوں کے لڑاکا طیاروں نے حالیہ دنوں میں شمالی شہر حلب کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔
امریکا اور روس کے درمیان عید الاضحیٰ سے قبل طویل بات چیت کے بعد شام میں جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت شامی فوج اور باغیوں نے ایک دوسرے کے خلاف حملے روک دیے تھے لیکن یہ جنگ بندی ایک ہفتہ تک ہی برقرار رہ سکی تھی اور روسی فوج نے اپنی اتحادی اسدی فوج سے مل کر حلب کے مشرقی حصے میں باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔اس وقت روس کی مسلح افواج شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں مختلف باغی گروپوں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے داعش کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں اور کبھی کبھی القاعدہ سے ماضی میں وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجو بھی ان فضائی حملوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔جنگ بندی کے دوران امریکی طیاروں نے مشرقی شہر دیر الزور میں شامی فوجیوں پر بھی بمباری کردی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم نوّے فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
اس واقعے کے بعد روس اور امریکا کے درمیان شام کے تنازعے پر ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔روس نے امریکا پر جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا اور اس حملے کو جواز بنا کر روس کے لڑاکا طیارے حلب اور دوسرے شہروں میں مغرب کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کررہے ہیں اور اب امریکا بشارالاسد کے خلاف ہتھیار بند باغیوں کی حمایت میں کچھ کرنے سے قاصر نظر آرہا ہے۔